ابنا: مصر ميں طلبہ نے مظاہرہ کرکے اعلي فوجي کونسل کو برطرف کئے جانے کا مطالبہ کيا ہے - قاہرہ سے موصولہ خبروں کے مطابق مصر کي عين شمس يونيورسٹي کے تقريبا ايک ہزار طلبہ نے يونيورسٹي کے گيٹ سے وزارت دفاع کي عمارت تک مارچ کيا - مصر ميں بر سر اقتدار فوجي کونسل کے خلاف يہ مظاہرہ ايسي صورت ميں ہوا ہے کہ جب سيکوريٹي فورس نے وزارت دفاع اور اس کے اطراف کي تمام سڑکوں پر خاردار تار اور بيريئر لگا رکھے تھے تاکہ طلبا کو عمارت تک پہنچنے سے روکا جا سکے - مظاہرين کے ہاتھوں ميں ايسے پلے کارڈس تھے جن پر فوجي کونسل کي برطرفي کا مطالبہ کيا گيا تھا - مظاہرين نے اسي طرح سول صدارتي کونسل کي تشکيل اور اقتدار اس کے حوالے کئے جانے کا بھي مطالبہ کيا -
قاہرہ کے التحرير اسکوائر پر بھي مسلسل ساتويں دن مظاہرے جاري رہے جس کے دوران سيکوريٹي فورس نے اسکوائر کو خالي کرانے کے لئے کئ بار مظاہرين پر حملے کئے تاہم ابھي تک وہ التحرير اسکوائر کو خالي کرانے ميں کامياب نہيں ہو پائے ہيں - رپورٹوں کے مطابق سيکوريٹي فورس اور مظاہرين کے درميان ہونے والي حاليہ جھڑپوں ميں کم سے کم چودہ لوگ ہلاک ہو گئے ہيں اور نو سو سے زائد زخمي ہوئے ہيں- حالانکہ مصر کي فوجي کونسل نے اکثر اموات کا سبب ، بھگڈر قرار دينے کي بہت کوشش کي ہے تاہم ميڈيکل رپورٹوں سے ثابت ہوتا ہے کہ دس لوگ فائرنگ ميں ہلاک ہوئے ہيں جس کي وجہ سے مصري عوام ميں فوجي کونسل کے خلاف غم و غصہ بڑھ گياہے، خاص طور سے اس لئے بھي کہ مصري عوام ، سيکوريٹي فورس کي جانب سے ايک با حجاب خاتون کو برہنہ کرنے کے شرمناک واقعے کو ابھي تک بھول نہيں پائے ہيں -
مصري عوام کے خيال ميں مصر ميں بر سر اقتدار اعلي فوجي کونسل ، گزشتہ حکومت کي پاليسيوں پر ہي عمل در آمد کر رہي ہے اور انقلاب کے نتائج اور عوام کي خواہشات پر کوئي توجہ نہيں دے رہي ہے -
ياد رہے کہ مصر ميں اعلي فوجي کونسل کي جانب سے کمال الجنزوري کو وزارت عظمي کا عہدہ سونپے جانے کے بعد اس ملک ميں عوامي غصہ دوبارہ پھوٹ پڑا ہے جس کا اندازہ اس ملک کے فوجي حکام کو بھي ہو گيا ہے، اسي لئے جلدبازي ميں کئے گئے اقدام کے تحت انہوں نے فوري طوور پر ان ہلاکتوں کي ذمہ داري دوسروں پر ڈالنے کي کوشش کي ہے تاہم مصري عوام ، اعلي فوجي کونسل کو امريکہ کا پٹھو سمجھتے ہيں - ياد رہے کہ تيئس دسمبر بروز جمعہ قاہرہ کے التحرير اسکوائر پر وسيع مظاہرہ ہونے والا ہے - اس مظاہرہ کا انعقاد ، فوجيوں کے ہاتھوں حاليہ ہلاکتوں کي مذمت ميں کيا جا رہا ہے _..............
/169